نیشنل ٹی20 کپ: سنسنی خیز مقابلوں کے بعد بلوچستان اور ناردرن فائنل میں

نیشنل ٹی20 کپ میں ناردرن اور بلوچستان نے سیمی فائنل میچوں میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد فتح حاصل کرتے ہوئے فائنل میں جگہ بنانے کا اعزاز حاصل کر لیا۔

قومی ٹی20 کپ پہلے سیمی فائنل میں ناردرن کا مقابلہ خیبر پختونخوا سے تھا جہاں پختونخوا کی ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا۔

ناردرن کی ٹیم 17 رنز پر دو وکٹیں گنوا چکی تھی لیکن اس کے بعد عمر امین اور روہیل نذیر نے 50 رنز کی شراکت قائم کر کے اپنی ٹیم کو سنبھالا دیا۔

عمر امین اور آصف علی نے اسکور کو 92 تک پہنچا ہی تھا کہ عمر 43 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹ گئے جبکہ آصف کی 16 گیندوں پر دو چھکوں اور ایک چوکے سے مزین 28 رنز کی اننگز بھی جلد اختتام کو پہنچی۔

اختتامی اوورز میں عثمان خان شنواری کی تباہ کن باؤلنگ کے سبب ناردرن کے بلے باز کھل کر رنز اسکور نہ کر سکے اور مقررہ اوورز میں ٹیم نے 9 وکٹوں کے نقصان پر 148 رنز بنائے۔

عثمان شنواری نے میچ میں تباہ کن باؤلنگ کرتے ہوئے 4 اوورز کے کوٹے میں صرف 13 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں جبکہ جنید خان اور عمران خان نے دو، دو وکٹیں اپنے نام کیں۔

ہدف کے تعاقب میں پختونخوا کی ٹیم پہلے ہی اوور میں صاحبزادہ فرحان کی وکٹ گنوا بیٹھی جس کے بعد فخر زمان کا ساتھ دینے کپتان محمد رضوان آئے۔

دونوں کھلاڑیوں نے اسکور 24 تک پہنچایا ہی تھا کہ محمد عامر نے رضوان کی وکٹیں بکھیر دیں۔

اس موقع پر فخر اور افتخار احمد کی جوڑی وکٹ پر یکجا ہوئی اور دونوں نے تیسری وکٹ کے لیے 65 رنز کی شراکت قائم کر کے اپنی ٹیم کی جیت کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی، فخر 39رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔

افتخار نے عمدہ بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور نئے بلے باز خوشدل کے ساتھ اسکور کو 133 تک پہنچا دیا جس کے بعد خوشدل کی 22رنز کی اننگز اختتام کو پہنچی۔

میچ کے آخری اوورز میں پختونخوا کو فتح کے لیے صرف 8 رنز درکار تھے اور افتخار وکٹ پر موجود تھے لیکن حارث رؤف نے شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو میچ میں فتح دلا دی۔

انہوں نے پہلی گیند پر 53 رنز بنانے والے افتخار کو چلتا کیا اور پھر اوور میں مزید تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے اپنی ٹیم کو تین رنز سے کامیابی دلا دی۔

خیبر پختونخوا کی ٹیم مقررہ اوورز میں 8وکٹوں کے نقصان پر 145 رنز بنا سکی۔

حارث کو میچ کے آخری اوور میں شاندار باؤلنگ پر بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ دیا گیا۔

ایونٹ کا دوسرا سیمی فائنل پہلے مقابلے سے بھی زیادہ سنسنی خیز ثابت ہوا جہاں بلوچستان کی ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا۔

سدرن پنجاب کے کپتان شان مسعود سمیت دونوں اوپنرز تو خاطر خواہ کھیل پیش نہ کر سکے لیکن اس کے بعد تجربہ کار شعیب ملک اور محمد حفیظ نے بالترتیب 64 اور 65 رنز کی اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کی معقول مجموعے تک رسائی یقینی بنائی۔

اننگز کے آخری اوور میں سدرن پنجاب کی ٹیم زیادہ رنز نہ بنا سکی جس کا خمیازہ انہیں بعد میں بھگتنا پڑا اور انہوں نے مقررہ اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 173 رنز بنائے۔

بلوچستان کی جانب سے علی شفیق دو وکٹیں لے کر سب سے کامیاب باؤلر رہے۔

ہدف کے تعاقب میں بلوچستان کے کپتان امام الحق، محمد عرفان کو وکٹ دے کر چلتے بنے جبکہ بسم اللہ خان کی 11رنز کی اننگز بھی عامر یامین کے ہاتھوں اختتام پذیر ہوئی۔

22 رنز پر دو وکٹیں گرنے کے بعد عمران فرحت اور اویس ضیا نے ذمے دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے اسکور کو 77 تک پہنچا دیا جس کے بعد عمران فرحت 20 اور اویس ضیا 31 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

79 رنز پر 4 وکٹیں گرنے کے بعد حارث سہیل اور حسین طلعت نے 52 رنز کی شراکت قائم کر کے ٹیم کی جیت کی امیدیں قائم رکھیں، حارث 22 رنز ہی بنا سکے البتہ حسین طلعت نے 29 گیندوں پر 42 رنز کی اننگز کھیلی۔

میچ کے آخری اوور میں بلوچستان کو فتح کے لیے 18 رنز درکار تھے لیکن عماد بٹ نے ایک مرتبہ پھر جارحانہ بیٹنگ سے ناممکن کو ممکن بناتے ہوئے دو چھکوں اور 2 چوکوں سمیت اوور میں 22 رنز بنا کر اپنی ٹیم کو میچ کی آخری گیند پر فتح دلانے کے ساتھ ساتھ فائنل تک بھی رسائی دلا دی۔

عماد نے صرف 14 گیندوں پر 29 رنز کی اننگز کھیلی جس میں دو چھکے اور تین چوکے شامل تھے اور میچ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ لے اڑے۔

بلوچستان اور ناردرن کی ٹیمیں جمعرات کو ایونٹ کے فائنل میں مدمقابل ہوں گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.