عمر اکمل اور احمد شہزاد کو موقع کیوں دیا؟ پی سی بی نے وضاحت کردی

پاکستان کرکٹ بورڈ نے سری لنکا کے خلاف سیریز کے لیے منتخب کیے گئے احمد شہزاد اور عمر اکمل کے حوالے سے سینٹر مشاہد اللہ کے بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملے پر وضاحت کی ہے۔

گزشتہ روز قومی ٹیم کی سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں کمیٹی کے اراکین نے قومی ٹیم کی ناتجربہ کار سری لنکن ٹیم کے ہاتھوں شکست پر برہمی کا اظہار کیا۔

اجلاس کے دوران مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہداللہ خان نے سری لنکا کے خلاف سیریز میں دو سفارشی کھلاڑیوں کو بھی کھلایا گیا اور سوال کیا کہ آخر عمراکمل اور احمد شہزاد اچانک کیسے نمودار ہوئے؟۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمر اکمل اور احمد شہزاد کو سفارش پر ٹیم میں شامل کیا گیا اور ہیڈ کوچ مصباح الحق پر دباؤ ڈال کر زبردستی ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کروایا گیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے سینٹر مشاہد اللہ کے بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی سی بی سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائےبین الصوبائی رابطہ کےاجلاس کے بارے میں بھی اپنی پوزیشن واضح کررہا ہے اور حقائق بیان کرنا چاہتا ہے۔

پی سی بی نے واضح کیا کہ مصباح الحق کی سربراہی میں قائم کردہ سلیکشن کمیٹی مکمل طور پر بااختیار ہے جو ملک کے بہترین کھلاڑیوں کو پاکستان کی نمائندگی کا موقع دے رہے ہیں، کھلاڑیوں کے انتخاب میں ان کی فارم، فٹنس اور کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد مصباح الحق اپنے وسیع تجربے کی بنیاد پر کھلاڑیوں کا انتخاب کرتے ہیں۔

بورڈ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ پی سی بی اپنے سلیکٹرز کی خودمختاری پر یقین رکھتا ہے اور بلا خوف و خطر کام جاری رکھنے کے لیے ان کی بھرپور حوصلہ افزائی جاری رکھے گا۔

پی سی بی کے مطابق سری لنکا کے خلاف سیریز کے لیے قومی کرکٹ ٹیم کے انتخاب میں بھی یہی طریقہ کار ملحوظ خاطر رکھا گیا اور قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق اس سلسلے میں پی سی بی اور نہ ہی کسی اوربالائی حلقوں کے زیراثر ہیں۔

اعلامیے میں دونوں بلے بازوں کی ٹیم میں شمولیت ککی بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ احمد شہزاد اور عمر اکمل کو ایچ بی ایل پی ایس ایل 2019 میں ان کی کارکردگی کی بنیاد پر قومی ٹیم میں جگہ دی گئی اور سری لنکا کے خلاف سیریز سے قبل ایچ بی ایل پی ایس ایل ہی آخری ٹی20 ایونٹ تھا۔

ایچ بی ایل پی ایس ایل 2019 میں احمد شہزاد نے 8 میچوں میں 51.83 کی اوسط سے 311 رنز بنائے، اس دوران ان کا اسٹرائیک ریٹ 126.93 رہا جبکہ ایونٹ میں انہوں نے 30 چوکے اور 8 چھکے جڑے۔

دوسری جانب عمر اکمل نے ایونٹ میں 12 میچز کھیلے اور 34.62 کی اوسط سے 277 رنز اسکور کیے، 18 چوکےاور 16 چھکے لگاتے ہوئے 137.12 کے اسٹرائیک ریٹ سے رنز کیے۔

اس موقع پر بورڈ نے اجلاس میں پی سی بی چیئرمین کی عدم موجودگی کی بھی وضاحت کرتے ہوئے 8 اکتوبر 2019 کو چیئرمین پی سی بی کے نام لکھے گئے خط میں درج تھا کہ سینئر نمائندے تمام متعلقہ افراد کے ہمراہ مذکورہ بالا اجلاس میں شرکت کر سکتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پی سی بی چیئرمین احسان مانی اور چیف ایگزیکٹو وسیم خان آئی سی سی اجلاس میں شرکت کے لیے سفر پر جارہے تھے جس کی وجہ سے ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ ہارون رشید اور سینئر لیگل قونصل بیرسٹر سلمان نصیر کو اجلاس میں شرکت کے لیے نامزد کیا گیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.