پاناما لیکس پر فلم بنانے والے ادارے ’نیٹ فلیکس‘ کے خلاف مقدمہ

تین سال قبل سامنے آنے والے ’پاناما لیکس‘ اسکینڈل پر فلم بنانے والی آن لائن اسٹریمنگ کمپنی ’نیٹ فلیکس‘ پر مقدمہ کردیا گیا۔

’نیٹ فلیکس‘ پر پاناما کی لا فرم ’موزیک فانسیکا‘ نے مقدمہ دائر کرتے ہوئے فلم میں دکھائے جانے والے مناظر کو جھوٹا قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ ’موزیک فانسیکا‘ نامی آف شور کمپنیوں کا قانونی ادارہ ’پاناما‘ سے تعلق رکھتا تھا جو دنیا کے امیر ترین لوگوں کو آف شور کمپنیاں بنا کر انہیں ٹیکس بھرنے سے بچانے میں مدد فراہم کرتا تھا۔

اسی ادارے کی جانب سے پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف، بے نظیر بھٹو، روس کے صدر ولادی میر پوٹن، سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان، آئس لینڈ کے وزیر اعظم، شامی صدر بشارالاسد سمیت کئی امیر ترین و طاقتور ترین افراد کو آف شور کمپنیاں بنوانے میں قانونی مدد فراہم کی۔

آف شور کمپنیاں بنائے جانے سے یہ افراد ٹیکس بھرنے سے بچ گئے تھے،

موزیک فانسیکا کے نجی ڈیٹا بیس سے 2.6 ٹیرا بائٹس پر مشتمل دستاویزات لیک ہوئی تھیں جن کی International Consortium of Investigative Journalists نے جرمن اخبار کے ساتھ مل کر تحقیق کی تھی۔

دنیا بھر سے درجنوں صحافیوں نے پاناما لیکس کی تحقیقات میں حصہ لیا تھا اور اس اسکینڈل میں پاکستان کے تقریبا 500 افراد کے نام سامنے آئے تھے۔

دنیا میں تہلکہ مچانے والے پاناما اسکینڈل سامنے آنے کے بعد 2018 میں موزیک فانسیکا کو بند کردیا گیا تھا۔

اسی اسکینڈل میں نام آنے پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سپریم کورٹ نے 28 جولائی 2017 کو نااہل قرار دیا تھا۔

گیری اولڈمین اور انتونیو بندیراس نے موزیک اور فانسیکا کا کردار ادا کیا ہے—اسکرین شاٹ

دنیا بھر میں تہلکہ مچانے والے ’پاناما لیکس‘ اسکینڈل پر اب ویب اسٹریمنگ ادارہ ’نیٹ فلیکس‘ ایک فلم ریلیز کر رہا ہے، جس میں اسی اسکینڈل کو دکھایا گیا ہے۔

’نیٹ فلیکس‘ کی فلم ’دی لانڈرو میٹ‘ میں موزیک فانسیکا کے قانونی فرم کے مرکزی افراد کو دکھایا گیا ہے۔

فلم میں اسی فرم کو بنانے والے جرمن قانون دان یرگن موزیک اور پاناما کے وکیل رامون فانسیکا کو دکھایا گیا ہے۔

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ان دونوں وکلا کا بنایا گیا ادارہ دنیا بھر کے امیر ترین و طاقتور ترین افراد کو ٹیکس سے بچنے کے لیے آف شور کمپنیاںب بنا کر دینے کی خدمات فراہم کرتا ہے۔

فلم کے جاری کیے گئے ٹریلر میں ’موزیک فانسیکا‘ کے دونوں سربراہوں کو انتہائی خوشگوار کرداروں میں دکھایا گیا ہے جو دنیا بھر کے افراد کو خدمات پیش کرتے ہیں۔

ٹریلر میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ قانونی فرم کی دستاویزات لیک ہونے کے بعد کس طرح دنیا بھر میں تہلکہ مچ جاتا ہے۔

ٹریلر میں دکھایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ’موزیک فانسیکا‘ کی خدمات کی وجہ سے سرعام کرپشن ہو رہی ہے۔

فلم کا ٹریلر ریلیز ہونے کے بعد اب اسی ادارے ’موزیک فانسیکا‘ نے ’نیٹ فلیکس‘ پر امریکی عدالت میں مقدمہ کردیا۔

فلم میں موزیک فانسیکا کے وکلا کا کردار اداکار گیری اولڈمین اور انتونیو بندیراس نے ادا کیا ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ’موزیک فانسیکا‘ کے دونوں سربراہوں نے 42 صفحات پر مشتمل دستاویزات میں فلم میں دکھائے جانے والے تمام مناظر کو جھوٹ پر مبنی قرار دیا۔

قانونی فرم کے دونوں وکلا نے عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں فلم کو ریلیز کرنے سے روکنے کی درخواست کی ہے۔

امریکی ریاست کنیٹیکٹ میں جمع کرائی گئی درخواست میں ’موزیک فانسیکا‘ کے سربراہوں نے فلم کو حقیقت کے خلاف بھی قرار دیا۔

تاہم دوسری جانب تاحال ’نیٹ فلیکس‘ نے اپنے خلاف درخواست دائر ہونے پر کوئی بیان نہیں دیا اور نہ ہی عدالت نے اس حوالے سے کوئی حکم جاری کیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.