ہمارا دورہ پاکستان پوری دنیائے کرکٹ کیلئے پیغام ہے، سری لنکن کوچ

سری لنکن ٹیم کے کوچ رمیش رتنائیکے نے بہترین انداز میں میزبانی کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب سری لنکا سمیت دنیا کی دیگر کرکٹ ٹیموں کو پاکستان کا دورہ کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ پیش نہیں آنی چاہیے۔

10 سال قبل مارچ 2009 میں پاکستان کے دورے پر آئی سری لنکن ٹیم پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا تھا جس کے بعد پاکستان پر عالمی کرکٹ کے دروازے بند ہو گئے تھے۔

6 سال بعد بتدریج کرکٹ کی بحالی کا عمل شروع ہوا اور پاکستان سپر لیگ کے میچز، چند غیر ملکی ٹیموں اور ورلڈ الیون کے دورے کے بعد ملک میں عالمی کرکٹ کی بحالی کا عمل شروع ہوا۔

گزشتہ ماہ سری لنکن ٹیم ون ڈے اور ٹی 20 سیریز کے لیے پاکستان پہنچی اور پاکستان میں تمام چھ میچز کا بہترین سیکیورٹی کے ساتھ انعقاد کیا گیا۔

سری لنکن ٹیم نے ون ڈے سیریز میں شکست کے بعد بہترین انداز میں واپسی کرتے ہوئے ٹی 20 سیریز میں عالمی نمبر ایک پاکستان کو کلین سوئپ کرتے ہوئے سیریز 0-3 سے اپنے نام کر لی تھی۔

سری لنکا روانگی سے قبل رمیش رتنائیکے نے پاکستان کی شاندار میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دورہ پاکستان بہت اچھا رہا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ان کی ٹیم پاکستان کا دورہ کرنے والی واحد ٹیم نہیں ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ دورہ پوری دنیا خصوصاً مستقبل میں پاکستان کا دورہ کرنے کے سلسلے میں سری لنکن ٹیم کے لیے پیغام ہے، ہمارے دورہ پاکستان سے کئی ملکوں کی یہاں دورہ کرنے کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

رمیش رتنائیکے نے کہا کہ پاکستانیوں کی مہمان نوازی کا تجربہ بہت شاندار رہا، مجھے بہت عرصے بعد اس کا تجربہ ہوا، ہم یہاں آتے ہوئے شکوک و شبہات کا شکار تھے لیکن یہاں ایک ایک لمحے سے لطف اندوز ہوئے لہٰذا میں اس دورے کو یقینی بنانے کے لیے آپ سب کا شکر گزار ہوں۔

اس موقع پر سری لنکن کوچ نے کہا کہ اس کامیاب دورے میں شاندار سیکیورٹی انتظامات کے ساتھ ہی سری لنکن ٹیم کے پاکستان میں ٹیسٹ میچ کھیلنے کے امکانات بہت بڑھ گئے ہیں اور وہ کھلاڑیوں کو پاکستان آنے کے لیے رضامند کرنے کی کوشش کریں گے۔

پاکستان میں 7 ٹیسٹ اور 16 ون ڈے میچ کھیلنے والے رمیش رتنائیکے نے کہا کہ پاکستانی عوام بالکل ویسے ہی ہیں جیسے آج سے 30 سال پہلے تھے اور پاکستانی عوام نے جس طرح ہمیں خوش آمدید کہا اس پر ہم ان کے بہت مشکور ہیں۔

یاد رہے کہ سیکیورٹی خدشات کے سبب 10 اہم اور سینئر سری لنکن کھلاڑیوں نے دورہ پاکستان سے انکار کردیا تھا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.