لائیو رپورٹنگ کے دوران 4 سالہ بیٹے نے والدہ کے ساتھ کیا کیا؟

ٹی وی پر براہ راست بریکنگ نیوز دینا کتنا اہم اور سنجیدہ معاملہ ہے یہ تو سب ہی جانتے ہیں لیکن اگر اس موقع پر بچے وہاں پہنچ جائیں تو یقیناً کوئی بھی اس صورتحال میں گھبرا جائے گا۔

ایسا ہی ایک واقعہ این بی سی کی نمائندہ کورٹنی کیوب کے ساتھ پیش آیا، جو ایم ایس این بی سی کے لائیو شو میں بریکنگ نیوز دے رہی تھی۔

کورٹنی کیوب قومی سلامتی کی رپورٹنگ کرتی ہیں اور اس شو کے دوران وہ واشنگٹن ڈی سی میں موجود این بی سی نیوز اسٹوڈیو میں ترکی کی جانب سے شام پر کیے گئے حملے پر بات کررہی تھیں۔

اس لائیو بریکنگ نیوز کے دوران ان کے 4 سالہ بیٹے نے رپورٹنگ میں خلل ڈال کر انہیں پریشان کردیا۔

ان کا بیٹا سیٹ پر براہ راست نشریات کے دوران اپنی ماں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا البتہ کورٹنی نے اپنی بات کو نہایت تحمل سے ختم کیا۔

واقعے کو سنبھالتے ہوئے کنڑول روم میں موجود پروڈیوسرز نے اسکرین پر کورٹنی کے بجائے نقشہ دکھانا شروع کردیا۔

ایم ایس این بی سی کے ٹوئٹر پیج پر اس واقعے کی ویڈیو بھی ٹوئٹ کی گئی، جس پر این ایس این بی سی کی مائیں اور ورکنگ مومز کے ہیش ٹیگز کا استعمال کیا گیا۔

اس ویڈیو پر صارفین نے شو کی نمائندہ کورٹنی کو سراہتے ہوئے چینل کی بھی تعریف کی۔

ایک صارف نے لکھا کہ یہ گھر سے باہر کام کرنے والی ماؤں کے لیے مثبت پیغام ہے۔

جبکہ کچھ ٹوئٹس میں چینل کو گھر سے باہر کام کرنے والی ماؤں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے سراہا گیا۔

خیال رہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں جب بچے لائیو شو کے دوران اسکرین پر سامنے آجائیں۔

اس سے قبل 2017 میں برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے نامہ نگار روبرٹ ای کیلی کے ساتھ بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا۔

روبرٹ کیلی جب بی بی سی ورلڈ نیوز کو ویب کیم کے ذریعے جنوبی کوریا کی صدر کو برطرف کیے جانے کے حوالے سے براہ راست انٹرویو دے رہے تھے تو ان کے دو ننھے بچے بھی اس انٹرویو کا حصہ بن گئے تھے۔

روبرٹ کی وائرل ہوئی اس ویڈیو نے ان کو اور ان کی فیملی کو چند گھنٹوں میں ہی شہرت کے عروج پر پہنچا دیا تھا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.