چیئرمین پی سی بی کی دنیائے کرکٹ سے پاکستان آ کر میچ کھیلنے کی درخواست

سری لنکن کرکٹ کی جانب سے کراچی میں 10سال بعد پہلا ون ڈے میچ کھیلے جانے کے بعد چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) احسان مانی نے ملک میں کرکٹ کی بحالی کے لیے دنیائے کرکٹ سے پاکستان آ کر مزید میچز کھیلنے کی درخواست کی۔

گزشتہ روز پاکستان اور سری لنکا کے درمیان سیریز کے دوسرے ون ڈے میچ کے ذریعے کراچی میں 10سال بعد انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ہوئی تھی اور پاکستان نے مہمان ٹیم کو 67 رنز سے شکست دے کر شہر قائد میں کرکٹ کی واپسی کو یادگار بنایا تھا۔

مزید پڑھیں: کراچی: ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کا طویل انتظار ختم

2009 میں پاکستان کے دورے پر آئی سری لنکن ٹیم پر لاہور میں کیے گئے دہشت گرد حملے میں متعدد سری لنکن کھلاڑی زخمی 8 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

متعدد دشواریوں کے باوجود پاکستان کرکٹ بورڈ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کے انعقاد میں کامیاب رہا اور سری لنکن ٹیم کو سربراہ مملکت کے سطح کی سیکیورٹی کی فراہمی کا وعدہ کر کے دورے کو یقینی بنایا۔

سری لنکن ٹیم دورہ پاکستان میں ون ڈے سیریز کے بعد لاہور میں 3 ٹی20 میچز بھی کھیلے گی اور 9 اکتوبر تک ملک میں قیام کرے گی جہاں گزشتہ ایک دہائی کے دوران یہ کسی بھی انٹرنیشنل ٹیم کا پاکستان میں سب سے طویل قیام ہو گا۔

چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے کہا کہ ہم متحدہ عرب امارات جیسے نیوٹرل مقامات پر کھیلنے کے بجائے پاکستان میں مزید انٹرنیشنل ٹیموں کی واپسی کے خواہاں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بابر اعظم نے سنچری بنا کر کوہلی کو ریکارڈ سے محروم کردیا

انہوں نے کہا کہ خوش آئند امر یہ ہے کہ کرکٹ کا کھیل دہشت گردی کو شکست دینے میں کامیاب رہا، سب سے اہم چیز کھلاڑیوں کی حفاظت اور سیکیورٹی ہے جس پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

سری لنکا کے ٹیلی کمیونیکیشنز، بیرون ملک ملازمت اور کھیلوں کے وزیر ہرن فرنینڈو نے کہا کہ یہ سیریز علاقائی تعاون کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے، کرکٹ اب پوری دنیا کا کھیل بن چکا ہے، یہ صرف مسابقت کا معاملہ نہیں بلکہ اس کا مقصد پڑوسی ملکوں کے درمیان یکجہتی کا اظہار بھی ہے۔

پیر کو کھیلے گئے میچ کے لیے سری لنکن ٹیم کو سخت سیکیورٹی کے حفاظتی حصار میں اسٹیڈیم اور پھر واپس ہوٹل پہنچایا گیا جبکہ اسٹیڈیم آنے والے شائقین کو بھی بھرپور تلاشی کے بعد اسٹیڈیم میں داخلے کی اجازت دی گئی۔

فرنینڈو نے پاکستان کی جانب سے شاندار سیکیورٹی کی فراہمی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد کے ساتھ ساتھ جس طرح سے انہوں نے ہمارا خیال رکھا، یہ سب دیکھ کر بہت حیرت ہوئی۔

مزید پڑھیں: بابر اور شنواری کی شاندار کارکردگی، سری لنکا کو 67رنز سے شکست

سری لنکن وزیر نے کہا کہ زندگی کو چلتے رہنا چاہیے، کھیلوں کو رکنا نہیں چاہیے، میرا ماننا ہے کہ دیگر ملکوں کی ٹیمیں بھی پاکستان کا ضرور دورہ کریں گی۔

احسان مانی نے کہا کہ حال ہی میں آسٹریلین کرکٹ کے آفیشلز نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور حکومتی اور پی سی بی آفیشلز سے ملاقات کی تھی، جلد انگلینڈ اور آئرلینڈ کے کرکٹ آفیشلز کی بھی پاکستان آمد متوقع ہے تاکہ وہ ملک میں سیکیورٹی کے معاملات کا جائزہ لے سکیں۔

چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ پوری دنیا کو پیغام جا رہا ہے جس کی وجہ سے یہ سیریز انتہائی اہمیت کی حامل ہے، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سب چیزیں بہترین ہیں، آپ خصوصاً جب ملک میں آ کر کرکٹ کو منعقد ہوتا ہوا دیکھ سکتے ہیں کیونکہ اس سے بہتر اس بات کا ثبوت نہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان میں سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کر کے 10 اہم اور سینئر سینئر کرکٹرز نے دورہ پاکستان سے انکار کردیا تھا تاہم فرنینڈو کا کہنا ہے کہ پاکستان آنے والے کھلاڑی وطن واپسی پر اس شاندار سیکیورٹی کا احوال سنا کر ان کھلاڑیوں کے اعتماد میں اضافہ کریں گے۔

پاکستان نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے سلسلے میں دو ٹیسٹ میچز کے لیے بھی سری لنکن ٹیم کی میزبانی کرنی ہیں اور ہرن فرنینڈو فرنینڈو نے ٹیسٹ میچز کے بھی پاکستان کے انعقاد کے حوالے سے بہت پرامید نظر آئے۔

یہ بھی پڑھیں: سیاست میں آنے کیلئے دل بہت چاہتا ہے، شاہد آفریدی

تاہم احسان مانی نے کہا کہ پاکستان میں ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی مستقل واپسی کے لیے کچھ عرصے تک بہترین سیکیورٹی کی فراہمی یقینی بنانا ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے جس طرح کی اعلیٰ معیاری سیکیورٹی کی سری لنکا کو فراہم کی ہے، ہمیں اسی طرح کی سیکیورٹی کو مستقل فراہم کرنا ہو گی، میں پراعتماد ہوں کہ دنیا کو بہت مثبت پیغام دیا گیا۔

مانی نے کہا کہ میں دسمبر میں شیڈول دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پاکستان کے انعقاد کے حوالے سے سری لنکن کرکٹ بورڈ پر کوئی دباؤ ڈالنا نہیں چاہتا تاہم مجھے امید ہے کہ یہاں آنے والے سری لنکن کرکٹرز پاکستان کے سفیروں کا کردار ادا کریں گے اور اپنے ساتھی کھلاڑیوں کو سیکیورٹی کی صورتحال سے آگاہ کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ ٹیموں کے گرد سیکیورٹی حصار بنانے کے بجائے ایسا ماحول بنائیں جس سے وہ پاکستان آ کر پرسکون اور مطمئن محسوس کر سکیں لیکن اس میں ایک سے دوسال لگ سکتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.