لاہور میں ایک نوجوان گزرتی لڑکی کے سامنے مشت زنی کرنے لگ گیا

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایک رکشہ ڈرائیور بس اسٹینڈ کے سامنے مشت زنی کرنے لگ گیا، لڑکی نے ہمت کرکے اس رکشہ ڈرائیور کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کردی تھی۔

نہ جانے کیوں اس قسم کے مرد اپنی مردانگی دکھانے کے خواہشمند ہوتے ہیں، جیسے پورے ملک میں کوئی اور مرد ہے ہی نہیں۔

یا پھر انہیں ایسا لگتا ہے کہ ہر لڑکی مرد کا عضو خاص یا جنسی تعلق کی خواہش رکھتی ہے۔

انہیں یہ بھی خیال نہیں آتا کہ سماج آپ ہی کا عکاس ہوتا ہے، اگر آپ اکیلے یا اپنے دوستوں کے ہمراہ ایسا کریں گے تو کل کو یہ سب آپ کی ماں، بہن، بیوی یا بیٹی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔

ہمارے معاشرے خصوصاً پنجاب میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور اس کے بعد بدنامی کے ڈر سے ان کے قتل کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

یہ زیادتی کمسن بچیوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ بچے کے ساتھ بھی ہورہی ہیں۔

قصور کی زینب کو شاید ہی کوئی بھولا ہوگا، اس واقعے نے پورے سماج کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

مشت زنی
زیب نے اس مسکراہٹ نے مضبوط دلوں کو بھی پگھلا کر رونے پر مجبور کردیا تھا

تمام والدین کے دل میں اپنے بچوں خصوصاً بچیوں کے حوالے سے خوف بیٹھ گیا تھا۔

قصور کی زینب کا قاتل تو پکڑا گیا مگر اس جیسے واقعات میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔

حال میں چونیاں کا واقعہ بھی آپ کے سامنے ہے، جہاں اپنی جنسی حوس کے خاطر ان ننھے پھولوں کو کھلنے سے پہلے ہی کچل دیا گیا۔

مشت زنی

حالیہ واقعہ لاہور کے نیو گارڈن ٹاؤن کے ابو بکر بلاک میں پیدل چلنے کے لیئے قائم پل کا ہے۔

زویا ایاز نامی لڑکی نے اپنی ٹوئٹر پروفائل پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں زویا نے بتایا کہ

’’ میں جب پیدل چلنے والے پل سے گزر رہی تھی تو ایک برہنہ لڑکا میرے سامنے آگیا اور میرے سامنے ہی مشت زنی کرنے لگ گیا‘‘

مشت زنی

زویا نے اپنی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ

’’میں کچھ وقت کے لیئے ساکت ہوگئی، پھر میں نے اس لڑکے کی ویڈیو بنانا شروع کردی، مگر وہ لڑکا بلکل پریشان نہیں ہوا‘‘

پھر زویا نے خطرناک بات بتائی کہ

’’اس لڑکے نے مجھ پر حملہ کرنے کی کوشش کی‘‘

یہ اچھا ہوا کہ زویا خیر خیریت سے اپنی منزل کی جانب پہنچ گئی، مگر نہ جانے ایسی کتنی زویا ہوں گی، جو روز اس قسم کے ذہنی تناؤ کا سامنا کرتی ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں : یہ دس نقش آپ کو بتائیں گے کہ اکیلا رہنا کتنا اچھا ہے

میری حکام سے گزارش ہے کہ برائے کرم جنسی تسکین کے لیئے ایسے علاقے بنادیں جہاں ان کی جنسی تسکین با آسانی، سستے اور محفوظ طریقے سے مہیسر ہو۔

یہ مطالبہ اس لیئے کیا جارہا ہے کہ ان جنسی درندوں کی تسکین ہوگی، تو ہی قصور کی زینب یا فیضان اور لاہور کی زویا جیسے کوئی اور لڑکی یا لڑکا شکار نہیں ہوگا۔

والدین سے گزارش ہے کہ بچپن سے ہی اپنے بچوں کو اچھا اور برا چھونے کا فرق سمجھائیں۔

اللہ ہمیں اور ہمارے بچوں کو ان درندوں سے محفوظ رکھے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.