یہ دس نقش آپ کو بتائیں گے کہ اکیلا رہنا کتنا اچھا ہے

آپ میں سے کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ تنہا زندگی گزارنا بہت مشکل کام ہے ، لیکن اگر آپ نے کبھی اس کی کوشش کی ہے تو آپ نے محسوس کیا ہوگا  کہ یہ کس قدر  آزادی کا  خوشگوار احساس ہے۔

ہمارے ملک سمیت ایشیاء میں مشترکہ طور پر خاندان رہا کرتے ہیں۔ جہاں ایک ہی گھر میں والدین کے ساتھ شادی شدہ بھائی یا بعض گھروں میں تو چچا وغیرہ بھی رہتے ہیں۔

اگر گھر میں صرف آپ کا ہی خاندان رہتا ہوں تو تب بھی دیگر بھائی بہن ساتھ ہوتے ہیں۔

ایسی صورت میں غیر شادی شدہ لڑکیاں اور لڑکے تنہائی کی تلاش میں ہوتے ہیں۔

وہ چاہتے ہیں کہ گھر میں ایک ایسی جگہ ہو، جہاں ہم بے خوف جو چاہیں کر سکیں۔

آگر آپ ایک غیر شادی شدہ لڑکی ہیں تو آپ کو تو مشترکہ خاندان یا گھر میں موجود دیگر بھائی بہن کی وجہ سے کئی مسائل پیش آتے ہوں گے۔

مشرقی گھرانوں کی لڑکیوں کو مسلسل والدین یا بڑوں کی جانب سے ہدایات ملتی رہتی ہیں۔

ایسے نہ بیٹھو، ڈوپٹے سے اپنے آپ کو ڈھانپ کر رکھو، سر پر ڈوپٹہ رکھو، ایسے نہ بات کرو، دھیمی آواز میں بات کرو، ایسے کپڑے نہ پہنو وغیرہ وغیرہ۔۔

بچاری لڑکی بس پورا دن اپنے آپ کو ڈھانپ کر رکھتی ہے۔

بڑوں کی جانب سے ملنی والی ہدایات کو اپنے ذہن میں رکھتے ہوئے اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

جہاں اس لڑکی سے کوئی غلطی ہوجائے تو اسے سخت باتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ہر ایک کو اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار تنہا رہنے کے ساتھ پُرسکونیت کا تجربہ کرنا چاہئے ، کیونکہ آپ جو کچھ کرنا چاہتے ہو ، وہ کر سکتے ہیں اور  آپ کو کسی کو جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

آپ اپنے زیر جامہ میں ناچ سکتے ہیں اور جتنا چاہیں موسیقی سن سکتے ہیں ۔

ٹی وی پر جو بھی شو چاہتے ہیں اسے دیکھ سکتے ہیں اور درجہ حرارت اتنا ٹھنڈا یا گرم بنا سکتے ہیں، جتنا آپ کے دل کی خواہش ہوتی ہے۔

 کسی اور سے پوچھے بغیر کچھ کرنا، جیسے چاہے رہنا یقینا ایک بہت اچھا تجربہ ہوسکتا ہے، تنہا رہنا ہی آپ کا اپنے ساتھ تعلق کو گہرا کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

میکسیکو سے تعلق رکھنے والی مصنف ایڈالیا کینڈیلاس نے نقاشیوں کے ذریعے اپنی مرضی سے جینے کی خوبصورتی کو سامنے لائی ہیں۔

"پوسٹ ماڈرن تنہائی” نامی سیریز میں ، وہ تنہا رہنے کے فوائد ظاہر کرتی ہے ، اور  وہ چاہتی ہیں کہ ہر جگہ لوگ خود ہی اس کا تجربہ کریں۔

مگر ایک بات ذہن میں رکھیں کہ زیادہ تہنا رہنا بھی انسان کو خطرناک حد تک نقصان پہنچاسکتا ہے۔

نیچے دیئے نقش آپ کو سمجھنے میں مدد کریں گے کہ کس طرح خاص طور پر ایک لڑکی تہنائی کا لطف لے سکتی ہے۔

اگر آپ کو پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کریں۔

اپنی صبح کی کافی یا چائے پئیں اور جتنا آپ چاہیں کم سے کم کپڑے پہنیں، بغیر کسی کی فکر کے بغیر کسی پریشانی کے۔

جتنا چاہیں، بیڈ پر لیٹی رہیں، مما، پاپا یا کسی اور کی آواز نہیں آئی گی کہ ’’کب تک مری پڑی رہو گی‘‘

پورا دن بیڈ کے کسی بھی طرف جہاں چاہیں، لیٹی رہیں، کوئی آپ کو نہیں کہے گا کہ اپنی جگہ پر ٹھیک طرح سے لیٹو۔

صوفے پر  ٹانگیں اٹھائے، کتاب پڑھیں، چاہے آپ نے انڈرویئر کے سوا کچھ نہیں پہنا ہوا ہو۔ آخر یہ آپ کی تنہائی ہے۔

ایک اچھی کتاب اور آپ کی پسندیدہ چائے یا کافی، ٹانگیں کھول کر، جیسے چاہے بیٹھ جائیں۔

نہاتے وقت دروازہ بند کرنے کی ضرورت بھی نہیں، اور نہ ہی نہانے کے بعد واش روم کے اندر کپڑے پہن کر باہر آنے کی ضرورت ہے۔ آپ کو برہنہ کوئی نہیں دیکھ رہا، جہاں چاہیں، کپڑے پہن لیں۔

باروچی خانے میں جاتے وقت سر پر ڈوپٹہ یا پوری طرح ڈھانپ کر جانہ نہیں پڑے گا، اپنے آرام دے لباس میں باورچی خانے کے اندر ہی اپنے مشروب کا لطف اٹھائیں۔

باورچی خانے یا گھر میں کسی جگہ بیٹھ کر گھنٹوں اپنے کسی سوچ میں ڈوب جائیں، کوئی آواز دے کر یہ نہیں کہے گا کہ کیوں علامہ اقبال کی طرح سوچ میں لگی ہو۔

آپ کا گھر، آپ کے قانون و قواعد

یہ کام کرنا ہے، وہ کام کرنا ہے، اسے کھانا دینا ہے، دوسرے کو چائے دینی ہے، برتن دھونا ابھی اور اسی وقت۔۔۔۔۔ نہیں ایسا کچھ نہیں، مت کریں کوئی کام، کوئی نہیں پوچھے گا۔

آرام سے تیار ہوں، اچھی طرح تیار ہوں، کسی کی آواز نہیں آئی گی کہ جلدی کرو اور کتنا وقت لو گی، سب تیار کھڑے ہیں، ایک تم ہو کہ جس کا میک اپ ہی ختم نہیں ہوتا

Leave A Reply

Your email address will not be published.